ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہندو شدت پسند تنظیمیں ہندو طالبان ہیں؛ آر ایس ایس اوربی جے پی پر کانگریس کا کرارا حملہ؛ دوںوں نقلی دیش بھگت

ہندو شدت پسند تنظیمیں ہندو طالبان ہیں؛ آر ایس ایس اوربی جے پی پر کانگریس کا کرارا حملہ؛ دوںوں نقلی دیش بھگت

Sun, 04 Sep 2016 20:14:13    S.O. News Service

مینگلور:4/ستمبر (ایس او نیوز) پروین پجاری کے قتل کی حمایت کرنے والے وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل ہندو طالبان ہیں اسی طرح  آر ایس ایس، وی ایچ پی ، بجرنگ دل اور بی جے پی اکٹوپس (سمندری کیکڑا) کے مانند ہیں اور اس اکٹوپس کا مرکز آر ایس ایس ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ممبر بی کے ہری پرساد نے کیا۔ وہ یہاں کنجور میں مقتول بی جے پی لیڈر پروین پجاری کے گھروالوں سے تعزیت کے بعداتوارکوضلع کانگریس دفتر میں اخبارنویسوں سے گفتگو کررہے تھے۔ہر ی پرساد نے  شدت پسند تنظیموں کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کاجنگ آزادی کی جدوجہد سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں ۔  آر ایس ایس نقلی دیش بھگت ہیں اور انہوں نے جنگ آزادی کے موقع پر انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ انہوں نے کہا جو لوگ خاکی چڈیاں، سیاہ ٹوپیاں اور ہاتھوں میں لاٹھیاں پکڑتے ہیں، نقلی قوم پرست ہیں اور جنگ آزادی میں برٹش کا ساتھ دینے والے لوگ ہیں۔

خیال رہے کہ 17 اگست  کو مبینہ طور پردو جانوروں کو گاڑی پر لے جانے کے دوران ہندو شدت پسند تنظیم کے کارکنوں نے ایک ٹرک پر حملہ کرتے ہوئے دولوگوں کی پیٹائی کی تھی جس میں ایک ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہواتھا۔ مہلوک نوجوان کی شناخت بی جے پی لیڈر پروین پجاری (29) کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ ہندو شدت پسند تنظیموں کا کہنا تھا کہ پروین پجاری گائے کو لاری پر لاد کر ذبح خانہ لے جارہا تھا جس کے دوران  اُس پر حملہ کیا گیا۔

ہری پرساد سنیچر کوپروین پجاری کے گھر پہنچے اوران کی موت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ذاتی حیثیت سے  ایک لاکھ روپیہ کی رقم گھروالوں کو دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاستی وزیراعلیٰ سے بھی گفتگو کریں گے اور اُن کے ورثا ءکو سرکارکی جانب سے بھی معاؤضہ دلائیں گے۔

انہوں نے غیر منقسم دکشن کنڑا ضلع (منگلورو اور اُڈپی )عوام کی زبردست تعریف کرتے ہوئے کہاکہ غیرمنقسم اضلاع کے عوام بہت ہی ہمت وحوصلہ والے ہیں وہ کبھی تشدد کی حمایت نہیں کرتے۔ البتہ حالیہ واقعات پر غور کریں تو معاشرہ کافی پریشان ہے ، کچھ شر پسند قوتیں ضلع کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جو ضلع فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مشہور ہے ، یہی قوتیں ضلع میں نفرت اور حسد کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے ضلعی عوام سے اپیل کی کہ وہ  متحد ہوکر ان قوتوں کا مقابلہ کریں تاکہ ضلع کی تہذیب اور روایات کا تحفظ ہو، خاص کر کانگریسی کارکنان ایسا کام کریں کہ اس ڈگر پر متحرک ہو کہ جہاں بھی ہم جائیں وہاں منگلورووالوں کی قدر ہو۔ انہوں نے افسوس ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ ملک میں 240اضلاع نکسلزم سے متاثر ہیں تو 90 اضلاع فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے بدنام ہیں جس کولازماً روکنے کی ضرورت ہے۔ ہماری جنگ آزادی کی جدوجہد اس وقت مکمل نہیں ہوگی جب تک کشمیر میں امن قائم نہ ہو، جوطاقتیں  مذہب، ذا ت پات، زبان کے نام پر سیاست کرتے ہوئے ملک میں ہنگامہ پیدا کررہے ہیں اصل میں وہ سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کانگریس لیڈر رمیا پر انڈے پھینکے جانے کے متعلق رمیا کا نام لئے بغیر نقلی دیش بھگتوں پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ جب ایک لڑکی منگلورو ، مجاہد آزادی ابکا کی زمین کا دورہ کرتی ہے تو اس پر انڈے اور چپل پھینکے جاتے ہیں، جنہوں نے بھی اس میں شریک ہوکر ایسی ذلیل حرکت کی ہےوہ دراصل ڈرپوک اور بزدل ہیں، یہ ان لوگوں کاکام ہے جو ملک اور قوم پرستی کے نام پر نقلی دیش بھگت ہیں۔ وزیر اعظم کے بیان  پر جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پچھلے 70سالوں میں کانگریس نے کچھ نہیں کیا ہے پر پلٹ وار کرتے ہوئے ہری پرساد نے کہاکہ لیکن کانگریس نے ملک کو کبھی توڑنے کاکام نہیں کیا ہے ہمیشہ اتحاد کے لئے کام کیا ہے۔ اخبار نویسوں نے پاکستان کے معاملے میں سوال کیا تو جواب میں انہوں نے ریاستی بی جے پی لیڈر پرہلاد جوشی کو مخاطب کرتے ہوئےکہاکہ ایل کے اڈوانی کو پاکستان بھیجو تاکہ وہ محمد علی جناح کو سکیولر لیڈر ہونےکے ناطے تعریف کریں۔ ہری پرساد نے یہ بھی سوال کیا کہ پاکستان کی تعریف کرنے پر اُس کی مخالفت کی جاتی ہے تو پھرہمارے وزیر اعظم  پاکستان کیوں گئے تھے ؟

گائے رکشھا کے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی کے متعلق سوال پوچھا گیا تو ہر ی پرساد نے کہاکہ رات کے اوقات میں یہ گورکشھا والے ڈکیتی وغیرہ میں شامل رہتے ہیں اور دن میں گائے کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، اور خود ان میں سے کچھ لوگ گائے کا گوشت کھانے والے بھی ہوتےہیں۔ اگر انہیں جانوروں سے اتنا پیار ہے تو پھر تمام جانوروں کے ذبیحہ پر روک لگانی چاہئے۔

 


Share: